ہفتہ 11 جولائی 2026 - 10:28
اجتماعی زندگی میں غصّہ اور اس کی وجوہات و راہِ حل

حوزہ/قرآنِ مجید اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق حقیقی طاقتور وہ شخص ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ غصہ انسان کو ظلم، زیادتی اور گناہوں کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ صبر، برداشت اور نرم مزاجی انسان کو عزت اور کامیابی عطا کرتی ہیں۔

از قلم: سیدہ لاریب زہراء، جامعہ المصطفیٰ کراچی

حوزہ نیوز ایجنسی| غصّہ ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان میں پایا جاتا ہے۔ اگر یہ مناسب حد میں ہو تو بعض اوقات انسان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، لیکن جب غصہ حد سے بڑھ جائے تو انسان اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے اور جلد بازی میں ایسے فیصلے کر لیتا ہے جن پر بعد میں اسے پچھتاوا ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے غصے سے منع نہیں کیا، بلکہ اس پر قابو پانے کی تعلیم دی ہے۔

قرآنِ مجید اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق حقیقی طاقتور وہ شخص ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ غصہ انسان کو ظلم، زیادتی اور گناہوں کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ صبر، برداشت اور نرم مزاجی انسان کو عزت اور کامیابی عطا کرتی ہیں۔

غصے پر قابو پانے کے لیے چند باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے غصے کی حالت میں خاموش رہنا چاہیے اور جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو اپنی جگہ یا حالت بدل لینی چاہیے؛ مثلاً اگر کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں اور اگر بیٹھے ہوں تو لیٹ جائیں۔ اللہ تعالیٰ کو یاد کریں، گہری سانس لیں اور اپنے آپ کو پُرسکون کریں۔ اس سے غصہ آہستہ آہستہ کم ہو جاتا ہے۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:"غصہ تمام برائیوں کی کنجی ہے۔"

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ بے قابو غصہ انسان کو بہت سے گناہوں اور غلط کاموں میں مبتلا کر دیتا ہے۔

غصے کے اسباب:

غصے کے پیدا ہونے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں چند یہ ہیں: تکبر اور خود پسندی، کم ظرفی، غلط فہمی، عدمِ برداشت، اور سب سے بڑھ کر حسد۔ حسد انسان کے دل میں دوسروں کی نعمتیں دیکھ کر پیدا ہوتا ہے، اور یہی حسد رفتہ رفتہ غصے اور نفرت کا سبب بن جاتا ہے۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:"حسد انسان کے ایمان کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔"

بے جا غصہ، اس کی مثال اور علاج

بے جا غصہ ایک بری عادت ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی نفسانی خواہشات کی بنا پر کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچائے یا اس کے ساتھ زیادتی کرے۔

مثال: اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ وہ نہتے اور بے گناہ فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے، ان کے گھروں، مساجد اور عبادت گاہوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ یہ ظلم، زیادتی اور ناجائز غصے کی واضح مثال ہے۔

اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کے بارے میں فرماتا ہے:اِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۚ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ. (سورۂ شوریٰ، آیت 42) ترجمہ: "الزام اور پکڑ تو صرف ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔"

بے جا اور ناجائز غصے کا علاج

اسلام نے بے جا غصے سے بچنے کے لیے چند اہم طریقے بیان کیے ہیں:

1. وضو کرنا:

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: "جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وضو کرے، کیونکہ غصہ آگ سے ہے اور پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔"

2. اپنی جسمانی حالت بدل لینا:

اگر کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں، اور اگر بیٹھے ہوں تو لیٹ جائیں۔

3. خاموشی اختیار کرنا:

غصے کی حالت میں خاموش رہنے سے انسان غلط بات کہنے اور غلط فیصلہ کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha